امریکا کا 8 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مستقل رہائش کی درخواستوں پر عمل روکنے کا فیصلہ

امریکا کا 8 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مستقل رہائش کی درخواستوں پر عمل روکنے کا فیصلہ

Oct 9, 2026|ویب ڈیسک

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی حکومت نے بھارت سمیت آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین کی مستقل رہائش سے متعلق تصدیقی عمل معطل کردیا ہے۔متاثرہ اداروں میں بھارتی کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل جبکہ مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔ امریکی وزیر محنت کے مطابق ان کمپنیوں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور پہلے سے زیرِ التوا درخواستوں پر کارروائی بھی روک دی جائے گی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعض کمپنیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کر رہی ہیں اور ملازمتوں سے متعلق ضوابط سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔دوسری جانب بھارتی ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی کمپنیوں نے امریکا میں مقامی افراد کی بھرتیوں میں اضافہ کیا ہے۔ادھر ایلون مسک نے بھارت میں اسٹارلنک کی سروسز کے اجرا میں تاخیر پر اعتراضات کیے اور مکیش امبانی کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ کیا وہ بھارت کے اصل فیصلہ ساز ہیں؟ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے جواب میں کہا کہ مسک کو ابھی ایک اور شخصیت کے بارے میں جاننا باقی ہے۔