بلوچستان میں دو خوفناک حادثات، ۱۳ افراد جاں بحق، زخمیوں کی منتقلی کیلئے چندہ جمع
کوئٹہ( اباسین خبر) بلوچستان کے ضلع کچھی میں قومی شاہراہ این ۶۵ پر پیش آنے والے دو ٹریفک حادثات میں کم از کم ۱۳ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ ۲۰ سے زائد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کیلئے ایمبولینسیں کم پڑنے پر مقامی شہریوں نے چندہ جمع کیا۔پولیس حکام کے مطابق دونوں حادثات کوئٹہ کو سبی اور سکھر سے ملانے والی قومی شاہراہ پر پیش آئے۔ پہلا حادثہ کوئٹہ سے تقریباً ۶۰ کلومیٹر دور مچھ میں زمیندار ہوٹل کے قریب ہوا، جہاں دو مزدا ٹرک آپس میں ٹکرا گئے۔ اسی دوران کوئٹہ سے سبی جانے والی مسافر ویگن بھی ان سے جا ٹکرائی اور پل سے نیچے کھائی میں جا گری، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ ایک ٹرک میں خانہ بدوش خاندان بھی سوار تھا۔مچھ پولیس کے ڈی ایس پی اکبر بگٹی کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے سول ہسپتال مچھ منتقل کیا گیا، جس کے بعد شدید زخمیوں کو کوئٹہ بھیجا گیا۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔مقامی شہریوں کے مطابق شدید زخمیوں کو کوئٹہ لے جانے کیلئے صرف ایک سرکاری ایمبولینس دستیاب تھی، جبکہ دو دیگر سرکاری ایمبولینسیں خراب ہونے کے باعث استعمال نہیں کی جا سکیں۔ صورتحال کے پیش نظر شہریوں نے چندہ اکٹھا کیا اور زخمیوں کو نجی گاڑیوں کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا۔واقعے کی ایک ویڈیو بھی سماجی ذرائع ابلاغ پر گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص کو زخمیوں کی منتقلی کیلئے چندہ مانگتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد دور دراز علاقوں کے ہسپتالوں میں ایمبولینسوں اور طبی سہولیات کی کمی پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔دوسرا حادثہ مچھ سے تقریباً ۵۰ سے ۶۰ کلومیٹر دور ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں دربی کے قریب پیش آیا، جہاں کوئٹہ سے سبی جانے والی آلٹو مہران کار اور مزدا ٹرک میں تصادم ہوا۔ ایس ایچ او ڈھاڈر ارشاد علی کے مطابق حادثے میں کار سوار چار افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ جاں بحق افراد میں میاں بیوی اور ان کے بچے شامل تھے۔ زخمی اور لاشوں کو سول ہسپتال ڈھاڈر منتقل کر دیا گیا۔