خیبر پختونخوا میں مسائل زیادہ، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا
اسلام آباد ( اباسین خبر) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل ہیں، جبکہ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ اکتوبر میں صدارتی فرمان کے ذریعے صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے، جن کی پارلیمنٹ سے توثیق بھی کرائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل کام کر رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں کوشش کی گئی تھی کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریق ایک مؤقف اختیار کریں، کیونکہ صوبائی سطح پر مؤثر تعاون کے بغیر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ملک کے بہادر جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا حکومت نے افغانستان سے متعلق پالیسی پر تعاون سے انکار کیا، حالانکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔طارق فضل چودھری نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے دہشتگردی اور دہشتگردوں کی مذمت کے حوالے سے مؤثر کردار ادا نہیں کیا اور اس کی سابق صوبائی حکومت نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی کے باعث خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی کو مؤثر انداز میں روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو دہشتگردی کے خلاف اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کا ہر حال میں خاتمہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے الزام لگایا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ غیر ملکی عناصر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کی بھی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، تاہم امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔طارق فضل چودھری کے مطابق خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں قائم کونسلوں میں قبائلی مشران بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے قیام کے لیے خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے بلوچستان حکومت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور متعلقہ اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر سابق پی ٹی آئی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون کرتی تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی۔وفاقی وزیر نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان کی جانب سے مسلسل دراندازی کے باعث سکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ جلد جیت لی جائے گی اور پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔طارق فضل چودھری نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کنٹینر پر کھڑے ہوکر وفاقی حکومت کو للکارتے ہیں اور صوبے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔