پشاور اسکول سانحہ، عمارت کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات

پشاور اسکول سانحہ، عمارت کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات

Oct 20, 2026|ویب ڈیسک

پشاور( اباسین خبر) پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے درجنوں بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں عمارت کی تعمیر اور ساخت سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عمارت بنیادی طور پر اسکول کے لیے تعمیر نہیں کی گئی تھی، جبکہ اس کی چھت بچوں اور فرنیچر کا وزن برداشت کرنے کے قابل نہیں تھی۔کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ ایسٹرن زون نے 15 اکتوبر کو پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کرکے خیبر پختونخوا حکومت اور گورنر کو ارسال کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق حادثے میں نجی اسکول کے ایک کلاس روم کا پچھلا حصہ گرا تھا۔ عمارت کا نقشہ کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے ریکارڈ میں موجود نہیں۔ یہ عمارت 2011 میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن فور کے دائرہ اختیار میں تعمیر کی گئی تھی۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نجی اسکول کی عمارت اصل میں گراؤنڈ اور فرسٹ فلور پر مشتمل رہائشی عمارت تھی، جسے اسکول کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ فلور کی دیواریں سیمنٹ کی اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھیں، جبکہ اس کی چھت لوہے کے گارڈرز پر ٹائلیں رکھ کر بنائی گئی تھی۔ فرسٹ فلور کی دیواروں پر پلستر نہیں تھا اور اس کی چھت لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر تیار کی گئی تھی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فرسٹ فلور کی چھت عارضی اور کچی نوعیت کی تھی، جو اسکول کے استعمال کے لیے موزوں نہیں تھی۔ یہ چھت بچوں اور فرنیچر کا وزن برداشت نہ کرسکی، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق عمارت باہر سے بظاہر خطرناک دکھائی نہیں دیتی تھی، اسی لیے پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے۔