ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کر دی، آؤٹ لک مستحکم قرار
نیویارک( کامرس ڈیسک) عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی طویل المدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ "منفی بی (B-)" سے بڑھا کر "بی (B)" کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک مستحکم قرار دیا گیا ہے۔ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ادارہ جاتی استحکام، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عمل درآمد اور مالیاتی نظم و ضبط نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا، بیرونی مالیاتی دباؤ میں کمی آئی اور ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوا۔ایس اینڈ پی کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات بڑھانے کی کوششوں سے مالیاتی خسارہ کم ہوا، جس کے باعث آئندہ برسوں میں حکومتی قرضوں کے بوجھ میں بھی بتدریج کمی کی توقع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون 2026 کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 25.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ دسمبر 2022 میں یہ صرف 6.7 ارب ڈالر کی کم ترین سطح پر تھے۔ ایجنسی کے مطابق موجودہ ذخائر آئندہ بارہ ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ایجنسی نے مزید کہا کہ 7 ارب ڈالر مالیت کے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام اور دوطرفہ شراکت داروں کی مالی معاونت نے پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے بیشتر اہداف بھی کامیابی سے حاصل کر چکا ہے، جس سے فنڈز کی بروقت فراہمی ممکن ہوئی۔ایس اینڈ پی نے مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اصلاحات کا تسلسل اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بنے گا، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے محدود دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں ناکام رہی، بیرونی مالی معاونت میں کمی آئی یا سودی ادائیگیوں کا بوجھ دوبارہ نمایاں طور پر بڑھ گیا تو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پر منفی دباؤ پڑ سکتا ہے۔