سہیل آفریدی گرفتاری کیس، آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کی سماعت روک دی
اسلام آباد( اباسین خبر) وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے متعلق مقدمات میں اہم حکم جاری کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو تاحکمِ ثانی ایسے مقدمات کی سماعت سے روک دیا ہے۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس معاملے میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کر رہی ہے، جبکہ دیگر متعلقہ فریقین عدالتی حکم کا جائزہ لینے کے بعد اپنی درخواستیں بھی دائر کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوجی کارروائیوں والے علاقوں میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ ہی آرٹیکل 199 کے اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں روزانہ آرٹیکل 199 کے تحت متعدد مقدمات دائر ہوتے ہیں، کیا عدالت روزانہ کی بنیاد پر آنے والے ایسے مقدمات کی سماعت بھی نہیں کرے گی؟دورانِ سماعت سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس بھی فریقین کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ انہوں نے حکم امتناعی جاری کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے ان کا موقف بھی سنے، کیونکہ صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات قابلِ قبول نہیں ہیں۔چیف جسٹس امین الدین خان نے جواب دیا کہ پہلے عدالتی حکم پڑھ لیں، اس کے بعد اپنے اعتراضات دائر کر دیں۔یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے عبوری احکامات میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا، جس کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔