مردان کے کسانوں کا 60 لاکھ کلو تمباکو فروخت نہ ہونے پر احتجاجی خدشات
مردان ( اباسین خبر) ضلع مردان میں ہزاروں تمباکو کاشتکاروں کو اپنی تیار فصل فروخت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، خریداری کے معاہدے ہونے کے باوجود 60 لاکھ کلو تمباکو فروخت نہ ہونے سے کسان شدید مالی پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔پاکستان ٹوبیکو اتھارٹی کے مطابق رواں سال تمباکو خریدنے کے لیے مجموعی طور پر 86 کمپنیوں نے معاہدے کیے، تاہم ان میں سے 34 کمپنیوں اور ڈیلروں نے معاہدوں کے باوجود اب تک کاشتکاروں سے تمباکو نہیں خریدا، جس کے باعث بڑی مقدار میں فصل فروخت ہونے سے رہ گئی ہے۔کاشتکاروں کے مسائل اور تمباکو کی عدم خریداری کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر مردان ڈویژن سید محمد علی شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسانوں کے نمائندوں، پاکستان ٹوبیکو اتھارٹی، تمباکو کمپنیوں اور محکمہ زراعت کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں متعلقہ حکام نے بتایا کہ 34 کمپنیوں نے کاشتکاروں سے خریداری کے معاہدے کر رکھے ہیں، لیکن اب تک اپنی طے شدہ مقدار کے مطابق تمباکو کی خریداری نہیں کی، جس سے ہزاروں کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔کمشنر مردان نے ہدایت کی کہ معاہدے کرنے کے باوجود خریداری نہ کرنے والی 34 کمپنیوں اور ڈیلروں کو ان کے طے شدہ حصے کے مطابق تمباکو خریدنے کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کاشتکاروں کے پاس موجود فصل کی مقررہ نرخوں پر خریداری یقینی بنائی جائے اور کمپنیوں کے ذمے واجب الادا رقوم بھی جلد ادا کی جائیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جن کاشتکاروں نے کمپنیوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کیے ہیں، ان کی فصل ترجیحی بنیادوں پر خریدی جائے۔ کمشنر نے کمپنیوں کو ہدایت کی کہ درمیانی افراد کے بجائے براہ راست کسانوں سے تمباکو خریدا جائے تاکہ انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے اور غیر ضروری کٹوتیوں و تاخیر سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مردان ڈویژن میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار تمباکو کی کاشت سے وابستہ ہے، اس لیے کسانوں کو ان کی پیداوار کی بروقت ادائیگی یقینی بنانا ضروری ہے۔کمشنر مردان نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ تمباکو کی فصل تیار ہونے سے پہلے ہی کمپنیوں اور کاشتکاروں کے درمیان خریداری کے معاہدے کیے جائیں تاکہ فصل تیار ہونے کے بعد خریداری میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔