حوثیوں کے 51 ارب ڈالر مطالبے کی سعودی عرب نے سختی سے تردید کر دی

حوثیوں کے 51 ارب ڈالر مطالبے کی سعودی عرب نے سختی سے تردید کر دی

Nov 6, 2026|ویب ڈیسک

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے 51 ارب ڈالر اور حکمران کے طور پر تسلیم کیے جانے کے مطالبے سے متعلق امریکی اخبار کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں نے دشمنی ختم کرنے کے بدلے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر اور یمن کے حکمران کی حیثیت سے تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اس رپورٹ کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو اخبار کے مصنفین یا ان کے ذرائع کی جانب سے گھڑی گئی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔رائد کرملی نے حوثی ملیشیا پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے یمنی حکومت کے خلاف بغاوت کی، عوام کو بھوک اور افلاس میں دھکیلا اور ملک کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں میں الجھایا جو یمنی عوام کے مفادات کے خلاف ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں، شہریوں اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہی ہے اور اس نے ہمیشہ امن کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔سعودی عہدیدار نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن میں پہلے ہی ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے، لہٰذا حوثیوں کو حکمران تسلیم کرنے سے متعلق دعوے درست نہیں ہیں۔