اسلام آباد( کامرس ڈیسک) اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے تین سالہ اقدامات کے باعث پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، اصلاحات اور عالمی شراکت داری کے ذریعے نمایاں ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔ریکوڈک، سینڈک اور دیگر بڑے منصوبوں میں بہتری کے نتیجے میں معدنی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جس سے شعبے کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس عرصے میں معدنی شعبے کے لیے قومی فنڈ کے قیام، یکساں قوانین کے نفاذ اور جدید لائسنسنگ نظام کے اجرا جیسے اہم اصلاحاتی اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ جیو سائنس ایڈوانس ریسرچ لیبز کی بحالی کے بعد انہیں عالمی معیار کی سرٹیفیکیشن بھی حاصل ہوئی۔رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کی کمپنی مٹسو کی جانب سے ریکوڈک سمیت دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کی گئی جبکہ مقامی سطح پر تربیتی پروگرام بھی شروع کیے گئے۔ اسی طرح پاک سالٹ اور ایک چینی کمپنی کے درمیان نمک کی صنعت میں اہم شراکت داری قائم ہوئی۔آزاد کشمیر میں تقریباً دو سال بعد مائننگ لائسنسز کی بحالی سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے، جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔پاکستان کی معدنی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور چین کو تانبا، زنک، کرومائٹ اور ایلومینیم کی برآمدات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔مزید برآں جیو لوجیکل سروے آف پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جدید تربیتی پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایس آئی ایف سی کے اقدامات نے معدنی شعبے کو ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے اقدامات سے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ
2 گھنٹے قبل