گندم بحران کا خدشہ، صوبوں نے وفاق سے لاکھوں ٹن گندم مانگ لی

گندم بحران کا خدشہ، صوبوں نے وفاق سے لاکھوں ٹن گندم مانگ لی

Jul 21, 2026|ویب ڈیسک

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)ملک میں گندم کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان پانچ روز کے دوران دوسرا اہم اجلاس وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنی اپنی ضروریات اور گندم کی دستیابی سے متعلق صورتحال پر تفصیلی غور کیا۔اجلاس میں پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن جبکہ سندھ نے کم از کم 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی درخواست کی۔ خیبرپختونخوا نے سرکاری شعبے کے لیے ایک لاکھ ٹن اور نجی شعبے کے لیے 7 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ظاہر کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں گندم درآمد کرنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا، تاہم حتمی فیصلہ تمام صوبوں سے تحریری طور پر حتمی ضروریات موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گندم کی قلت کی بنیادی وجوہات میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے تحت دو سال قبل امدادی قیمت کا خاتمہ اور رواں سال پنجاب اور سندھ کی جانب سے کسانوں سے مطلوبہ مقدار میں گندم نہ خریدنا شامل ہیں۔وفاقی وزیر احد چیمہ نے واضح کیا کہ مقامی کسانوں کے مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور گندم درآمد کرنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ملکی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ملک میں 2 کروڑ 97 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی، جبکہ گزشتہ سال کے 20 لاکھ ٹن ذخائر بھی موجود ہیں۔ مجموعی طور پر دستیاب گندم ملکی ضرورت سے تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ٹن زیادہ ہے، تاہم پنجاب مطلوبہ سرکاری ذخائر برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کسانوں سے 30 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف حاصل نہ کر سکی اور صرف 4 لاکھ 80 ہزار ٹن گندم خریدی گئی، جبکہ سندھ بھی دو لاکھ ٹن سے کچھ زائد گندم ہی خرید سکا۔اجلاس کے دوران سندھ نے پنجاب سے بین الصوبائی گندم کی نقل و حمل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی درخواست کی، تاہم پنجاب نے محدود ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے اس مطالبے سے اتفاق نہیں کیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب میں 40 کلو گندم کی قیمت 4 ہزار 188 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار 423 روپے، سندھ میں 4 ہزار 625 روپے، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 100 روپے اور بلوچستان میں 4 ہزار 800 روپے تک پہنچ گئی۔گندم مہنگی ہونے کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کراچی میں آٹے کی قیمت 142 روپے فی کلو جبکہ گوجرانوالہ میں 130 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ فصل کی کٹائی کے چار ماہ بعد بھی ملک میں گندم کے بحران کی صورتحال تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کی جانب سے مطلوبہ خریداری نہ ہونے کے باعث بحران نے جنم لیا، جبکہ قیمتوں میں کمی لانے کا مؤثر حل گندم درآمد کرنا ہے۔