مصنوعی ذہانت انشورنس شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، عدنان پاشا
کراچی( کامرس ڈیسک)وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے نمایاں مالی معاونت حاصل ہو رہی ہے، تاہم ملک کو صرف معاشی استحکام تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انشورنس کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔کراچی میں پہلی بین الاقوامی انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عدنان پاشا نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں حالیہ سیلاب کے دوران دو ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، لاکھوں افراد متاثر ہوئے، مویشیوں کا بڑا نقصان ہوا اور زرعی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس کے باعث بے شمار خاندان غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ مون سون کی شدید بارشیں ہر سال بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتی ہیں، جبکہ پاکستان کو سیلاب کے ساتھ ساتھ خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں انشورنس کا دائرہ کار اب بھی انتہائی محدود ہے اور تقریباً سات لاکھ افراد کے پاس ہی لائف انشورنس موجود ہے۔ ان کے مطابق انشورنس کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ پالیسی سازی نہیں بلکہ عوام میں آگاہی کا فقدان اور خدمات کی مؤثر فراہمی کے مسائل ہیں۔عدنان پاشا نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے متعارف کرائی گئی مختلف اسکیموں کا مقصد انشورنس کی سہولت عام شہری تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے بینکوں کو فصلوں سے متعلق ڈیٹا فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے زرعی قرضوں کی فراہمی اور پیداوار کے درست تخمینے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے انشورنس کے شعبے کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے استعمال سے انشورنس خدمات کو جدید، مؤثر اور عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ زرخیزی، اپنا گھر اور نئی توانائی سمیت حکومتی منصوبوں میں انشورنس کے شعبے کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ وزارت خزانہ اس شعبے کی ترقی اور توسیع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔