لاہور ( کامرس ڈیسک) پنجاب کابینہ نے پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صوبے میں بجلی کے استعمال اور پیداوار سے متعلق نیا فریم ورک نافذ کیا جائے گا۔نئے قواعد کے مطابق پرائیویٹ جنریٹرز اور سولر پاور سسٹمز کو بھی الیکٹرسٹی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ 500 کے وی اے سے زائد جنریٹرز اور بڑے سولر سسٹمز اس نیٹ میں آئیں گے۔صنعتی اور کمرشل صارفین پر 4 پیسے فی یونٹ الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جبکہ گھریلو صارفین کو اس نئی ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومتی اندازے کے مطابق اس فیصلے سے سالانہ تقریباً 30 کروڑ 60 لاکھ روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔رولز کے مطابق تقریباً 1177 صنعتی اور کمرشل مقامات نئے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے۔ الیکٹرک انسپکٹر کو پاور جنریشن سہولیات سیل کرنے اور ریکارڈ چیک کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ڈیوٹی ادا نہ کرنے والوں سے ریکوری لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت کی جائے گی، جبکہ نجی پاور جنریشن رکھنے والوں کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔صنعتی اور کمرشل سیلف جنریشن یونٹس کے لیے علیحدہ انرجی میٹر نصب کرنا ضروری ہوگا، جبکہ سولر سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کا مکمل ریکارڈ رکھنا ہوگا۔ ماہانہ ریٹرنز اور لاگ بکس جمع کرانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ڈیوٹی کی عدم ادائیگی کی صورت میں 10 سے 15 فیصد لیٹ پےمنٹ پینلٹی عائد ہوگی، جبکہ غلط ریکارڈ فراہم کرنے پر جرمانہ اور بجلی پیداوار بند کرنے کی کارروائی بھی کی جا سکے گی۔پنجاب حکومت نے 2012 کے پرانے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز ختم کرتے ہوئے نئے 2026 رولز نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری، جنریٹرز اور سولر سسٹمز بھی دائرہ کار میں آ گئے
3 گھنٹے قبل