بانی پی ٹی آئی کے علاج کیلئے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے: بیرسٹر گوہر

بانی پی ٹی آئی کے علاج کیلئے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے: بیرسٹر گوہر

Nov 3, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد ( اباسین خبر) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا مناسب علاج کرایا جائے اور ان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی فراہم کی جائے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی اپنی جماعت اور سیاسی مؤقف ہے، اسمبلی میں ان کی تقریر کے بعد انہوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ بعض الفاظ سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ملک، قوم اور جمہوریت کے مفاد میں سیاسی تناؤ کم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے بھی جس انداز میں جواب دیا گیا وہ مناسب نہیں تھا۔ 8 اپریل کے بعد سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے پہلی ملاقات ہوئی، جو 380 دن بعد ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقاتوں پر پابندی ہی سیاسی کشیدگی میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کسی قیدی کو 15 روز تک اہل خانہ سے نہ ملنے دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تو حالات اتنے کشیدہ نہ ہوتے اور شاید ایمرجنسی یا گورنر راج کی صورتحال بھی پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اپنا نام حتمی ہونے کی خبر کی وہ پہلے ہی تردید کرچکے ہیں۔ ان کی کوشش تھی کہ سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کرائی جائے، جس کے لیے انہوں نے اپنے علاوہ علامہ ناصر عباس کا نام بھی تجویز کیا تھا۔ سیاسی ملاقات ممکن نہ ہونے پر سلمان صفدر کے ذریعے ملاقات کی کوشش کی گئی، جو کامیاب رہی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور اسپیکر کی بازیابی کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا، تاہم اسے لارجر بینچ کے سپرد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پر جلد سماعت ہوگی اور کہا کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کا لاپتا ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ان کے مطابق سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صورتحال کا علم تھا، تاہم ملاقات کے دوران انہوں نے زیادہ سیاسی گفتگو نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسی بات کی جسے سیاسی خبر بنایا جاسکے۔بیرسٹر گوہر نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ بانی پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقام عروج پر ہے، جس سے جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی بارہا واضح کرچکی ہے کہ وہ ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے غیر سیاسی بہنوں کی قید کو بھی غلط قرار دیا اور بتایا کہ ان کی درخواست پر نورین نیازی کو ایک روز مزید اسپتال میں رکھا گیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی جماعت آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی کوشش بھی کررہی ہے اور خیبرپختونخوا کے تمام ارکان بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، کوئی فارورڈ بلاک موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی نشست اہم ہے اور اگر کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی تو فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مؤقف کی حمایت نہیں کی۔ ان کے بقول حکومت، فوج اور ریاست سب ان کی اپنی ہیں اور سیاست سے پہلے پاکستان ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی منتقلی سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، نہ بنی گالا اور نہ ہی اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا معاملہ زیر غور آیا۔