ایران اور سعودی عرب میں علاقائی امن کیلئے سکیورٹی مذاکرات جاری
تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان خطے کے لیے نئے سکیورٹی انتظامات وضع کرنے کی غرض سے مذاکرات جاری ہیں، جن میں بیرونی فوجی مداخلت کے بغیر علاقائی سلامتی یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ تہران خطے کے ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی مشاورت کے ذریعے سلامتی کا نیا نظام قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی۔ اگست کے بعد یہ تینوں ممالک کے نمائندوں کی ایران کے ساتھ پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔سعودی عرب کے مطابق اس دورے کا مقصد سفارتی مذاکرات کے امکانات پیدا کرنا اور خطے میں دوبارہ فوجی تصادم کو روکنا تھا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات خطے کے دوسرے ممالک تک بھی پھیل چکے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان جھڑپوں میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران شدت آئی ہے۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطوں کو علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی کے نئے انتظامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔