پاکستان ریلوے پہلی بار منافع میں، 115 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی: حنیف عباسی
اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے اپنی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار منافع میں آئی ہے اور ادارے نے 115 ارب روپے کی آمدن حاصل کی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 65 ارب روپے منافع کمانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے بتایا کہ 80 نئے پاور پلانٹس 23 مارچ تک پاکستان ریلوے کے بیڑے میں شامل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے حوالے کی گئی پانچ ٹرینوں سے 3 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے، جبکہ مزید ٹرینوں کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ عوام ایکسپریس کے تین نئے ریک موصول ہو چکے ہیں، جبکہ قراقرم ایکسپریس، ملت ایکسپریس اور دیگر ٹرینوں کی جون 2026 تک ازسرنو تزئین و آرائش مکمل کر دی جائے گی۔وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان ریلوے نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ مال برداری (فریٹ) کے شعبے سے 41 ارب روپے کی آمدن حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب تمام رولنگ اسٹاک کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بندرگاہوں تک سامان کی بروقت ترسیل ممکن ہوئی اور مثبت نتائج سامنے آئے۔حنیف عباسی نے کہا کہ ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری منصوبے پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ایم ایل ون منصوبے پر مذاکرات جاری ہیں اور جلد وزیراعظم سے اس منصوبے کا افتتاح کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کی تکمیل کے بعد روہڑی سے کراچی کا سفر تقریباً پانچ گھنٹے کم ہو جائے گا، جبکہ ایم ایل ٹو منصوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرمایہ کاری لائی جائے گی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پہلی بار چاروں صوبوں میں آٹھ نئی برانچ ریلوے لائنیں تعمیر کی جائیں گی، جبکہ اورنج ٹرین سروس کو دیہی علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز ٹرین منصوبے کے لیے بلوچستان حکومت نے فنڈز فراہم کر دیے ہیں، جبکہ سندھ میں دو نئے ریلوے روٹس کے معاہدوں پر جلد دستخط ہوں گے۔حنیف عباسی کے مطابق روہڑی جنکشن کو جدید خطوط پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جبکہ راولپنڈی میں جدید گارڈ روم اور ریسٹ ایریا مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرز کی سہولیات خانیوال، کوٹری، روہڑی، لاہور اور پشاور میں بھی قائم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بوسیدہ ریلوے کالونیوں اور کوارٹرز کی مرحلہ وار تعمیرِ نو جاری ہے تاکہ مستقبل میں ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ علاوہ ازیں ریلوے ملازمین کے جی پی فنڈز کی مد میں 50 کروڑ روپے کی ادائیگی بھی کر دی گئی ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ریلوے اسکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی اور ریلوے ہسپتالوں کی نجکاری کے بعد ملازمین کو 25 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال ریلوے حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ریلوے کے تمام ٹھیکے شفاف طریقے سے اوپن آکشن کے ذریعے دیے جا رہے ہیں اور کسی کو غیر ضروری فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بادامی باغ کی ایک نیلامی سے متوقع 52 ملین روپے کے بجائے تقریباً 450 ملین روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔حنیف عباسی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے لیے مختص خصوصی ریلوے سیلون صرف ایک بار استعمال کیا ہے اور اپنے گھر کے کسی ملازم کو بھی ریلوے کی مفت ٹکٹ جاری نہیں کی۔