کیش لیس پاکستان: ڈیجیٹل ادائیگیوں اور صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ

کیش لیس پاکستان: ڈیجیٹل ادائیگیوں اور صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ

Jul 7, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت کے "کیش لیس پاکستان" اقدام کے تحت ملک میں ڈیجیٹل مالی لین دین میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔سرکاری اعلامیے کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال کاروباری اداروں (مرچنٹس) کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ "راست کیو آر کوڈ" نظام نے ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بھی بڑھ کر 13 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ سالانہ ڈیجیٹل مالی لین دین کی مجموعی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب تک پہنچ چکی ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے "کیش لیس پاکستان" اقدام کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ دسمبر 2026 تک 25 وفاقی اور صوبائی اداروں کو "راست" نظام کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں تقریباً 75 فیصد ادائیگیوں کی وصولی اب ڈیجیٹل ذرائع سے ممکن ہو چکی ہے، جبکہ شفافیت کو مزید بہتر بنانے اور ڈیٹا میں نقل (ڈپلیکیٹ) کے خاتمے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔بلال اظہر کیانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت جدید، شفاف اور مؤثر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔