پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی نہیں ہوگی، بجٹ میں مرحلہ وار کمی پر غور کریں گے، احسن اقبال

پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی نہیں ہوگی، بجٹ میں مرحلہ وار کمی پر غور کریں گے، احسن اقبال

Oct 30, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اگلے بجٹ میں اس کی شرح مرحلہ وار کم کرنے کے قابلِ عمل اقدامات پر غور کرے گی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی اور رانا ثناء اللہ شامل ہوں گے، جبکہ جماعت اسلامی بھی اپنے 3 نمائندے نامزد کرے گی۔ دونوں فریق مل بیٹھ کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تجاویز پر غور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت محدود وسائل میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ماضی کی غلطیاں دہرانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ایسا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جو عارضی عوامی پذیرائی کے لیے ملک کو بڑے معاشی بحران میں دھکیل دے۔احسن اقبال کے مطابق حکومت اس وقت پیٹرولیم لیوی کی مد میں 80 روپے، کلائمٹ لیوی کے 5 روپے اور کسٹم ڈیوٹی کے 20.56 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے، جس سے مجموعی ٹیکس تقریباً 106 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔دوسری جانب وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اہداف کا حصہ ہے۔ حکومت نے مالی سال 2022-23 سے 2025-26 تک 4.2 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 4.4 کھرب روپے لیوی جمع کی، جو مقررہ ہدف سے 227 ارب روپے زیادہ ہے۔تحریری جواب کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 1.468 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1.567 کھرب روپے وصول کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا بجٹ تخمینہ 1.676 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔وزیر پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پرائس ڈفرینشل کلیمز کی مد میں 66.5 ارب روپے کے بل تاحال زیر التوا ہیں۔