بائننس پر بڑا سائبر حملہ، 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے متاثر
اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو تاریخ کے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے متاثر ہوئے۔ کمپنی نے تمام نقصانات خود برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائننس کے سی ای او رچرڈ ٹینگ نے سائبر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انتہائی پیچیدہ طریقہ کار استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہونے یا کسی والٹ کی نجی کلید لیک ہونے کے امکان کو مسترد کردیا۔رچرڈ ٹینگ کے مطابق کمپنی کی تحقیقات میں اب تک کسی ایک فرد کو حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ اس سے قبل بائننس کی ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہونے کے ذریعے ہیکرز نے نظام تک رسائی حاصل کی اور غیر قانونی طور پر رقوم نکلوانے کی ٹرانزیکشنز کیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بائننس اس معاملے کی تحقیقات اور کارروائی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ کمپنی نے مختلف بلاک چین پارٹنرز اور اسٹیبل کوائن کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے فوری طور پر منجمد بھی کر دیے ہیں۔سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک بائننس نے عارضی طور پر تمام ڈپازٹس اور رقوم نکلوانے کی سہولت روک دی ہے۔بلاک چین انٹیلی جنس فرم ٹی آر ایم لیبز کے مطابق قوی امکان ہے کہ حملے میں شمالی کوریا کا سرکاری ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر ملوث ہے۔حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد بیشتر بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم اسٹیبل کوائنز کی قدر میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔