نیتن یاہو انتخابی میدان ہار چکے ہیں، گادی آئزنکوٹ کا دعویٰ
تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو انتخابات ہار چکے ہیں اور انہیں پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں، اسی لیے ان کی ٹیم انتخابی نتائج کو غیر معتبر قرار دینے کی مہم چلا رہی ہے۔بی بی سی کے مطابق گادی آئزنکوٹ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے بیانات پہلے سے تیار کیے گئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طے شدہ منصوبے کے مطابق کنیسٹ کے اجلاس اور حلف برداری کے عمل میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد 48 نشستوں پر ہے۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرکے انتخابی سیاست میں اہم پوزیشن بنا لی ہے۔ عرب رہنما احمد طیبی کا کہنا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر اسرائیل میں سیاسی تبدیلی ممکن نہیں۔ عرب جماعتوں نے نیتن یاہو مخالف اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے حمایت کی پیشکش بھی کی ہے۔