حکومت کی نئی صنعتی ٹیرف پالیسی: کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں پر فکسڈ چارجز میں اضافہ کی تجویز

2 گھنٹے قبل
حکومت کی نئی صنعتی ٹیرف پالیسی: کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں پر فکسڈ چارجز میں اضافہ کی تجویز

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو نئی دو حصوں پر مشتمل صنعتی ٹیرف پالیسی پیش کر دی ہے، جس کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں پر فکسڈ چارجز میں اضافہ جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فی یونٹ نرخوں میں رعایت دینے کی تجویز شامل ہے۔ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا مقصد بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنا اور صنعتی صارفین کو قومی بجلی کے نظام سے منسلک رکھنا ہے۔حکومتی موقف ہے کہ کئی صنعتی یونٹس اپنی منظور شدہ استعداد کے مطابق بجلی استعمال نہیں کر رہے اور متبادل ذرائع کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس کے باعث قومی گرڈ پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔پاور ڈویژن کے مطابق جو صنعتی صارفین اپنی مقررہ لوڈ صلاحیت کا پچاس فیصد یا اس سے زیادہ استعمال کریں گے، انہیں بجلی کے نرخوں میں ایک سے دو امریکی سینٹ فی یونٹ تک رعایت دی جا سکتی ہے، جس کے بعد صنعتی نرخ کم ہو کر تقریباً چھ سے آٹھ سینٹ فی یونٹ تک آ سکتے ہیں۔وزیر توانائی کی جانب سے اس تجویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے حکام سے بھی مشاورت کی گئی ہے، جبکہ ادارے نے صنعتی بجلی کے استعمال اور گرڈ سے علیحدہ ہونے والے صارفین کے اعداد و شمار طلب کیے ہیں۔پاور ڈویژن کے مطابق اس پالیسی کے ابتدائی مرحلے میں اطلاق صنعتی صارفین پر کیا جائے گا، جبکہ مستقبل میں اسے تجارتی اور گھریلو صارفین تک بھی توسیع دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے صنعتی پیداوار میں بہتری اور بجلی کے نظام کے مؤثر استعمال میں مدد ملے گی، تاہم ناقدین کے مطابق پہلے سے مہنگی بجلی کے نظام میں مزید فکسڈ چارجز صنعتوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔