لندن کی عدالت کا فیصلہ، رسل برانڈ چار الزامات میں مجرم قرار
لندن ( شو بز ڈیسک) رطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برانڈ کو لندن کی عدالت نے دو دہائیوں سے زائد عرصہ قبل پیش آنے والے واقعات سے متعلق جنسی زیادتی اور ہراسانی کے مقدمے میں قصوروار قرار دے دیا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جیوری نے چار خواتین سے متعلق جنسی زیادتی کے الزامات میں رسل برانڈ کو مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت پیر کے روز انہیں سزا سنائے گی، جس کے نتیجے میں انہیں قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔تاہم عدالت نے زیادتی کے دو دیگر الزامات اور جنسی حملے کی کوشش کے ایک الزام سے انہیں بری کر دیا۔ جیوری میں 8 مرد اور 4 خواتین شامل تھے، جنہوں نے دو روز تک 8 گھنٹے سے زائد غور و خوض کے بعد فیصلہ سنایا۔سابق امریکی گلوکارہ کیٹی پیری کے شوہر رہنے والے رسل برانڈ نے مقدمے کے دوران تمام الزامات مسترد کیے تھے۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ جوانی میں انہیں جنسی تعلقات کا جنون تھا اور وہ بے راہ روی کی زندگی گزارتے رہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کسی کو اس کی مرضی کے خلاف کسی عمل پر مجبور نہیں کیا۔ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مبینہ متاثرہ خواتین نے واقعات کے کئی برس بعد پولیس سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق یہ شکایات 2023 میں رسل برانڈ کے خلاف ایک دستاویزی فلم نشر ہونے کے بعد سامنے آئیں، جس میں ان پر نام ظاہر کیے بغیر الزامات عائد کیے گئے تھے۔رسل برانڈ نے 2000ء کی دہائی کے آغاز میں اپنے متنازع مزاحیہ پروگراموں، ٹیلی ویژن شوز اور بی بی سی کے ریڈیو پروگرام کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی فلموں ’فورگیٹنگ سارہ مارشل‘ اور ’گیٹ ہِم ٹو دی گریک‘ میں بھی اداکاری کی۔بعد ازاں وہ منشیات اور شراب نوشی کے مسائل کے باعث بھی خبروں کی زینت بنے رہے۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ سے دوری اختیار کرتے ہوئے امریکی ریاست فلوریڈا میں سکونت اختیار کرلی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بڑی تعداد میں پیروکار حاصل کیے، جہاں وہ صحت، سازشی نظریات اور مذہبی رجحانات سے متعلق ویڈیوز شیئر کرتے رہے ہیں۔