پردہ کرنے والی خواتین بھی مردوں کی ہراسانی سے محفوظ نہیں، حنا بیات
کراچی (شوبز ڈیسک) پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ اور میزبان حنا بیات نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کو صرف گھروں سے باہر ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں اور خاندانوں میں بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ پردہ کرنے والی خواتین بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ایک حالیہ صبح کی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے حنا بیات نے کہا کہ مشرقی معاشروں کے مشترکہ خاندانی نظام میں بھی خواتین کو نامناسب رویوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر خاندانی تقریبات میں بعض مرد رشتے دار لڑکیوں کو بری نظر سے دیکھتے اور انہیں ہراساں کرتے ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے لڑکوں کی تربیت ضروری ہے۔ بیٹوں کو خواتین کا احترام کرنا سکھایا جائے۔ عزت کا مطلب عورت کو خاندان کی غیرت یا وقار سے جوڑنا نہیں بلکہ اسے ایک انسان کی حیثیت سے حقیقی احترام دینا ہے۔ مردوں کو اپنے رویوں میں تہذیب اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی تاکہ معاشرے میں محفوظ ماحول قائم ہو سکے۔حنا بیات نے خواتین کے لباس کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باوقار اور مناسب لباس خواتین کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔انہوں نے اپنے ایک سابقہ سماجی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے دو لڑکیوں کو مختلف لباس پہنا کر بازار بھیجا تھا تاکہ لوگوں کے رویوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ پہلے مرحلے میں دونوں لڑکیاں عام مشرقی لباس پہن کر بازار گئیں تو بعض افراد نے انہیں دیکھا، تاہم کسی نے نامناسب حرکت نہیں کی۔اداکارہ کے مطابق بعد ازاں جب یہی لڑکیاں دوپٹہ اوڑھ کر بازار گئیں تو بعض افراد نے انہیں چھوا، جبکہ مکمل حجاب میں بازار جانے پر انہیں چھیڑا گیا۔حنا بیات نے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔ ان کے بقول بعض مرد یہ تصور کرتے ہیں کہ مکمل پردے میں موجود خاتون اپنا دفاع نہیں کر سکے گی، جبکہ عام باوقار لباس میں خواتین کو زیادہ پراعتماد سمجھا جاتا ہے۔