لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کارروائی کے خلاف درخواست مسترد کردی
لاہور( سپورٹس ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائی کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے محمد رضوان کو متعلقہ تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش ہوکر جاری کیے گئے سوالات کے جواب دینے کی ہدایت کی۔محمد رضوان کے وکیل قاضی عمیر علی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل ایک قانون پسند شہری ہیں اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے ملک کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ وکیل کے مطابق لارڈز ٹیسٹ کے بعد ایک سرکاری اہلکار نے انہیں ہوٹل کی لابی میں بلا کر بغیر پیشگی نوٹس کے پوچھ گچھ کی اور ان کا موبائل فون بھی تحویل میں لے لیا، جو تاحال واپس نہیں کیا گیا۔درخواست میں قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے جاری طلبی کے نوٹسز کو غیر قانونی اور دائرۂ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ محمد رضوان پر آن لائن سٹے بازی اور جوئے سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق کرکٹ میں بدعنوانی سے متعلق معاملات کے لیے عالمی کرکٹ کونسل کا انسدادِ بدعنوانی یونٹ متعلقہ فورم ہے۔سماعت کے دوران وکیل کے پاس مقدمے کی فائل موجود نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب دس ستمبر کو جاری نوٹس پر عمل ہوچکا ہے تو متعلقہ ادارے کے سامنے جاکر سوالات کے جواب دیے جائیں۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد محمد رضوان کی درخواست مسترد کردی۔