داعش خراسان کی معاونت پر افغان شہری کو 20 سال قید
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں افغان شہری محمد شریف اللہ کو داعش خراسان کی معاونت کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔محمد شریف اللہ کو رواں سال اپریل میں ورجینیا کی وفاقی عدالت نے داعش خراسان کو مادی مدد فراہم کرنے کی سازش کا مجرم قرار دیا تھا۔ استغاثہ نے اسے 2021ء میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم جیوری اس حملے میں اس کے کردار کی حد کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔کابل ایئرپورٹ حملے میں کم از کم 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ جیوری نے دو روز غور کے بعد شریف اللہ کو داعش خراسان کی معاونت کی سازش کا مجرم تو قرار دیا، لیکن ایئرپورٹ دھماکے میں اس کے مبینہ کردار پر فیصلہ نہ کرسکی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس کانگریس سے خطاب میں شریف اللہ کو کابل ایئرپورٹ حملے کا اہم ترین دہشت گرد قرار دیا تھا۔استغاثہ کے مطابق شریف اللہ نے حملے سے قبل ایئرپورٹ جانے والے راستے کی نگرانی کی، جس کے بعد اسی راستے پر ایک خودکش بمبار نے افغانستان سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔امریکا نے اگست 2021ء میں افغانستان سے اپنے باقی فوجی واپس بلا لیے تھے، جس کے دوران طالبان کی واپسی کے باعث ملک میں افراتفری پھیل گئی اور ہزاروں افغان شہری بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے لگے۔شریف اللہ کو مارچ 2025ء میں پاکستان سے امریکا کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد واشنگٹن کے مضافاتی شہر الیگزینڈریا میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔امریکی حکام کے مطابق شریف اللہ 2016ء سے 2025ء میں گرفتاری تک داعش خراسان کے متعدد حملوں میں ملوث رہا۔ ان میں جون 2016ء میں کابل میں کینیڈین سفارتخانے کی سکیورٹی پر مامور نیپالی گارڈز پر خودکش حملہ بھی شامل ہے۔استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ شریف اللہ نے اس حملے سے پہلے علاقے کی نگرانی کی اور خودکش حملہ آور کو مطلوبہ مقام تک پہنچایا۔ اس پر یہ الزام بھی تھا کہ اس نے مارچ 2024ء میں ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال حملہ کرنے والے داعش خراسان کے کارکنوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دی۔