جے یو آئی کا ایڈوائزری کونسل کے ارکان کو شوکاز نوٹس، تین دن میں استعفوں کی ہدایت
پشاور( اباسین خبر) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) خیبر پختونخوا نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے ایڈوائزری کونسل میں شامل جماعتی ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کردیے اور تین دن کے اندر مستعفی ہونے کی ہدایت کردی ہے۔جے یو آئی خیبر پختونخوا کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، صوبائی مجلسِ عاملہ کا اجلاس پشاور میں مفتی محمود مرکز کے صوبائی سیکرٹریٹ میں صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش نے مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمن نے ملک میں جاری کشیدگی، اپوزیشن اور حکمران جماعت کے درمیان جے یو آئی کے مصالحتی کردار اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بھی اظہارِ خیال کیا۔بیان کے مطابق، صوبائی مجلسِ عاملہ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو جمہوریت کی نفی قرار دیا اور ایڈوائزری کونسل کے قیام کو مسترد کردیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایڈوائزری کونسل میں شامل جے یو آئی کے جن ارکان نے اب تک استعفے نہیں دیے، انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے اور تین دن کے اندر استعفے دینے کی ہدایت کی جائے گی۔ بصورتِ دیگر ان کی جماعتی رکنیت معطل تصور ہوگی۔مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے پر تشویشاجلاس میں مشیر اطلاعات کے مدارس سے متعلق بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ دینی مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنا حقائق کے منافی اور افسوسناک ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مدارس دینیہ امن، محبت اور رواداری کے مراکز ہیں اور انہوں نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کا ساتھ دیا ہے، جبکہ سینکڑوں علما اس دہشت گردی کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔جے یو آئی نے مشیر اطلاعات کے بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ قومی معاملات پر گفتگو کرتے وقت ذمہ داری، شائستگی اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ بیان کے مطابق، اس بیان سے مدارس اور مذہبی حلقوں میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے اور اسے شہدا کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔سوشل میڈیا مہم پر بھی اظہارِ تشویشاجلاس میں بعض حلقوں اور مبینہ طور پر زر خرید وی لاگرز کے ذریعے سوشل میڈیا پر جے یو آئی اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف کردار کشی کی مہم پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ جھوٹے بیانیے کے ذریعے مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کے جرات مندانہ کردار کو مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ جماعت کے میڈیا سیل کے مطابق، اس سے قبل بھی ایسے بیانیوں کا جواب دیا گیا تھا اور اب بھی ان کا بھرپور جواب دیا جارہا ہے۔اجلاس میں مختلف اضلاع اور تحصیلوں سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے مفتی عبید اللہ اور بیرسٹر عماد ایڈووکیٹ پر مشتمل دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں مفتی عبید اللہ، مفتی فضل غفور، مولانا عبدالحسیب، عبدالجلیل جان، مفتی ناصر محمود، محمد رحیم حقانی، بیرسٹر عماد ایڈووکیٹ، شاہ حسین الائی، محمد اسرار مروت، انعام میمن، صداقت خان اور مولانا احمد علی درویش نے شرکت کی۔