خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران 18 ارب 46 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران 18 ارب 46 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

Oct 24, 2026|ویب ڈیسک

پشاور( اباسین خبر) خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں مالی سال 2024-25 کے دوران 18 ارب 46 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ خوردبرد کا انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی بے ضابطگیاں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں سامنے آئیں، جہاں کمپنی کے نظم و نسق اور انتظامی امور پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انتظامی معاملات کے باعث قومی خزانے کو 18 ارب 46 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ عدالتی احکامات کے باوجود کمپنی صنعتی مالکان کو لیز پر الاٹ کی گئی اراضی کے عوض 2 ارب 8 کروڑ 49 لاکھ روپے وصول کرنے میں ناکام رہی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2024 میں لیز معاہدوں کی تجدید کے لیے متعارف کرائی گئی نئی پالیسی کے تحت کمرشل اراضی کے معاہدوں کی تجدید نہ ہونے سے خزانے کو 62 کروڑ 98 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔اسی طرح بونیر، مہمند اور جلوزئی میں اراضی واگزار نہ کرانے کے باعث سرکاری خزانے کو ایک ارب 7 کروڑ 74 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ کمرشل اراضی غیر قانونی طور پر صنعتی مقاصد کے لیے الاٹ کرنے سے بھی 17 کروڑ 41 لاکھ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہری پور میں الحدید انجینئرنگ کو 10 ایکڑ پر مشتمل پلاٹ نمبر 185، 186، 187 اور 190 الاٹ کیے گئے، تاہم متعلقہ کمپنی سے رقم وصول نہ کیے جانے کے باعث قومی خزانے کو 49 کروڑ 78 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی کے ممکنہ واجبات کا تخمینہ 14 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو اس کی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث سرکاری وسائل کو بھاری نقصان پہنچا، جبکہ بعض افراد کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔