ایرانی عدالت کا معروف فلمساز جعفر پناہی کو 5 سال قید کا حکم
تہران ( شو بز ڈیسک) ایران کی عدالت نے ایوارڈ یافتہ معروف ہدایت کار اور فلمساز جعفر پناہی کو 5 سال قید کی سزا سنادی، جبکہ ان کے اثاثے ضبط کرنے اور 2 سال تک ملک چھوڑنے اور سوشل میڈیا سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی کا حکم بھی دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے نے جعفر پناہی کے وکیل کے حوالے سے بتایا کہ ایران کی انقلابی عدالت نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں ان پر عائد الزامات کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔66 سالہ جعفر پناہی ایرانی حکومت پر تنقید کے باعث ماضی میں بھی کئی مرتبہ گرفتار ہوچکے ہیں۔ 2025 میں بھی انہیں نظام کے خلاف پروپیگنڈا سرگرمیوں کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ رواں سال امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مارچ میں ایران واپس آگئے تھے۔جعفر پناہی کا شمار ایران کے معروف ہدایت کاروں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ 20 برس کے دوران گرفتاریوں، بیرون ملک سفر پر پابندیوں اور گھر میں نظر بندی کے باوجود وہ فلم سازی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کی تازہ ترین فلم ’’It Was Just an Accident‘‘ نے 2025 کے کانز فلمی میلے میں سب سے بڑا اعزاز پام ڈی اور حاصل کیا۔ یہ فلم انہوں نے ایران میں خفیہ طور پر بنائی تھی۔ فلم کی تیاری سے قبل بھی وہ 7 ماہ جیل میں رہے، تاہم 2023 میں بھوک ہڑتال کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔ان کی فلم ’’Taxi‘‘ نے 2015 کے برلن فلمی میلے میں گولڈن بیئر، جبکہ ’’The Circle‘‘ نے 2000 کے وینس فلمی میلے میں گولڈن لائن ایوارڈ جیتا تھا۔جعفر پناہی ان چند ہدایت کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے یورپ کے 3 بڑے فلمی اعزازات، پام ڈی اور، گولڈن بیئر اور گولڈن لائن حاصل کیے ہیں۔