قرضوں پر سود دفاعی و ترقیاتی بجٹ سے بڑھ گیا، 80 کھرب روپے ادائیگیوں کا تخمینہ
اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی ہیں، جبکہ رواں سال ان ادائیگیوں کا تخمینہ 80 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔قرضوں کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کا بوجھ ملکی مالیاتی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن رہا ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود ہر سال ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن کا بڑا حصہ نگل جاتا ہے۔اندازوں کے مطابق مالی سال 2030-31 میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے باقی رہنے کا امکان ہے۔پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا حجم درمیانی مدت میں بھی بلند رہنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث قومی وسائل کا بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا رہے گا۔سود کی ادائیگیوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ ہے، جبکہ حکومت خسارہ کم کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ بھی کوششیں کررہی ہے۔