ایران امریکا کشیدگی، تیل مہنگا، عالمی مارکیٹیں دباؤ میں

ایران امریکا کشیدگی، تیل مہنگا، عالمی مارکیٹیں دباؤ میں

Jul 18, 2026|ویب ڈیسک

لندن/نیویارک( کامرس ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا۔رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کے اثرات پاکستان سمیت درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک میں مہنگائی، روپے کی قدر اور سرکاری مالیات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر اضافے کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 3.14 ڈالر اضافے کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔اسی دوران مربان خام تیل اور ویسٹ ٹیکساس مڈلینڈ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات کے پیش نظر خریداری میں اضافہ کیا۔توانائی کی دیگر منڈیوں میں بھی قیمتیں اوپر گئیں، جہاں امریکی گیسولین فیوچرز، ڈچ قدرتی گیس، امریکی قدرتی گیس اور جاپان-کوریا مائع قدرتی گیس بینچ مارک کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی میں بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ بحری راستہ عالمی خام تیل کی تجارت کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔