بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے

بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے

Jul 18, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ (اباسین خبر) حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، جس کے بعد فریقین کے درمیان تحریری معاہدہ طے پا گیا۔معاہدے کے تحت شہدائے زیارت کے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور شہداء کے لواحقین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا۔معاہدے کے مطابق بلوچستان کے شہری علاقوں میں پولیس فورس کی استعداد، افرادی قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ شہدائے زیارت کو مروجہ پالیسی کے تحت شہید قرار دے کر ان کے لواحقین کو کفالت، بچوں کی تعلیم اور مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف سرکاری عمارتیں ان کے نام سے منسوب کی جائیں گی، جبکہ ریونیو سے متعلق عوامی تحفظات کے ازالے کے لیے وزیر ریونیو کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں سرکاری افسران اور مقامی معتبرین شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی وزیر صحت بخت کاکڑ نے کی، جبکہ کمیٹی میں صوبائی وزراء ضیاء لانگو، سلیم خان کھوسہ، میر عاصم کرد گیلو، سینیٹر منظور کاکڑ، بلال کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہ زیب کاکڑ بھی شامل تھے۔