ایران کی عراق، تیونس اور مصر سے کشیدگی میں کمی کیلئے سفارت کاری جاری
تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے عراق، تیونس اور مصر کے ساتھ سفارتی رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین اور تیونس کے وزیر خارجہ محمد علی نفتی کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے بھی علاقائی صورت حال اور کشیدگی میں کمی لانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔مصری وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر نادر ذکی کے مطابق گفتگو میں خطے میں دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات اور اس کے علاقائی و عالمی امن و سلامتی پر ممکنہ اثرات زیر بحث آئے۔اس موقع پر مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سفارتی ذرائع اور سیاسی حل کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے تمام فریقین سے لچک کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسا قابل قبول سمجھوتہ ضروری ہے جس میں تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے اور فوجی کشیدگی کی نئی لہر کو روکا جا سکے، کیونکہ اس کے سنگین سیاسی، معاشی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔مصری وزارت خارجہ کے مطابق قاہرہ خطے میں کشیدگی پر قابو پانے، سیاسی حل کی حمایت اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔