اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی کے اہداف پر تاحال مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور مالیاتی ادارے کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جن میں ٹیکس اہداف بڑھانے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے معاملات زیر بحث ہیں۔حکومتی سطح پر آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو بتدریج ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے پر سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ایک سو چھبیس ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ تین ہزار ایک سو اٹھارہ ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت صوبائی منصوبوں کے لیے مختص رقم محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں متعدد ترقیاتی منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے علیحدہ فنڈز مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔حکام کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے پاکستان سے آئندہ مالی سال میں ٹیکس آمدن میں نمایاں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صوبوں کو بھی اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔مزید برآں حکومت سے مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کرنے کی بھی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف مذاکرات: آئندہ بجٹ میں ٹیکس اہداف اور اخراجات میں کمی پر اختلاف برقرار
2 گھنٹے قبل