نئی آٹو پالیسی سے ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار 22 روز سے بند، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

نئی آٹو پالیسی سے ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار 22 روز سے بند، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

Jul 23, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے باعث ملک میں ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار گزشتہ 22 روز سے معطل ہے۔سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آٹو انڈسٹری کے نمائندوں نے بتایا کہ ٹیرف سے متعلق پالیسی واضح نہ ہونے کے باعث ملک بھر میں ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری رک چکی ہے۔نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال مزید ایک ہفتے برقرار رہی تو کمپنیوں کے لیے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو جائے گی۔اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ کا اجلاس بلا کر اس مسئلے کا حل نکالا جائے گا اور نئی آٹو پالیسی کی منظوری کے بعد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔اجلاس میں نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) کے قیام سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ فی الحال ملک میں نئے ای پی زیڈز کے قیام پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق ٹیرف ایریا کے برآمدی کوٹے کے خاتمے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ارسال کی جا رہی ہے، جس پر ستمبر 2026 تک عمل درآمد کی تجویز دی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ یہ فیصلہ وزارت یا ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی کا نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ای پی زیڈز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان زونز میں قائم ادارے ٹیکس ادا نہیں کرتے، تاہم برآمد کنندگان ان سہولتوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔دوسری جانب صنعتکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ بار بار آئی ایم ایف کا حوالہ دیا جاتا ہے، جبکہ ان کے پاس موجود تحریری ریکارڈ کے مطابق یہ مطالبہ آئی ایم ایف کی جانب سے نہیں کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ہدایت کی کہ وزارت اور آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کر کے ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے صنعت اور برآمدات دونوں متاثر نہ ہوں۔