حلال صنعت میں نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بڑے مواقع ہیں، خالد مگسی
کراچی ( کامرس ڈیسک)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس شعبے کے فروغ کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت ناگزیر ہیں۔پاکستان کے پہلے حلال فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلال انڈسٹری عالمی معیشت کا اہم شعبہ بن چکی ہے اور پاکستان میں حلال مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان حلال اتھارٹی مصنوعات کے معیار اور سرٹیفکیشن کے نظام کو مزید مؤثر بنائے گی۔خالد مگسی کے مطابق عالمی معیار کی باہمی منظوری سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔ حلال صنعت نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان حلال اتھارٹی کو مضبوط بنانے اور عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔فورم آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین اسد سجاد نے کہا کہ دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی ہونے کے باوجود عالمی حلال معیشت میں پاکستان کا حصہ صرف 1 فیصد ہے۔ ان کے مطابق مقصد خام مال کی برآمد کے بجائے ویلیو ایڈڈ اور سرٹیفائیڈ حلال مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینا ہے، جن کی برآمدی مالیت 40 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حلال فورم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو خلیجی ممالک، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر ملکوں کے خریداروں سے براہ راست جوڑے گا۔ حلال صنعت اب صرف خوراک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ادویات، کاسمیٹکس، لاجسٹکس، موڈیسٹ فیشن، حلال سیاحت، اسلامی فن ٹیک اور کیو آر کوڈ، بلاک چین ویریفکیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آڈٹ جیسی جدید ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔