آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے اتفاق نہ ہوسکا، مزید اعداد و شمار طلب

آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے اتفاق نہ ہوسکا، مزید اعداد و شمار طلب

Oct 2, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے پر حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات میں مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا، جس پر آئی ایم ایف نے مزید اعداد و شمار اور تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق کابینہ سے منظوری سے قبل آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے دوبارہ مشاورت کی جائے گی۔ مذاکرات کے دوران وفد کو بتایا گیا کہ صرف بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر ایک فیصد فروخت ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر یہ شرح بڑھا کر 18 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔گاڑیوں کی برآمدات سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ آٹو شعبے کو برآمدات کا حجم 3 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچانے کا ہدف دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے تاحال آٹو پالیسی کے مسودے سے اتفاق نہیں کیا اور اس پر مزید بات چیت ہوگی۔ مجوزہ پالیسی میں گاڑی بک ہونے کے بعد قیمت میں اضافے کی صورت میں کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے اور صارف کو گاڑی کی فراہمی کی تاریخ بتانا لازمی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔وزارت صنعت و پیداوار نے آٹو موبائل اور آٹو پرزہ جات کی تیاری سے متعلق 2026-31 کی پالیسی کا حتمی مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، پیداواری معیار میں بہتری اور برآمدات کو عالمی منڈی سے منسلک کرنا ہے۔پالیسی کے تحت آٹو پرزہ جات کو عالمی رسدی زنجیر کا حصہ بنا کر برآمدات بڑھانے، کارکردگی کے اہداف مقرر کرنے اور اہداف مکمل نہ ہونے پر جرمانوں جبکہ کامیابی پر مراعات کا نظام متعارف کرانے کی تجویز ہے۔بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ، نئی ٹیکنالوجی اور جدید خصوصیات متعارف کرانے کے لیے مسابقتی ماحول پیدا کرنے کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔مجوزہ پالیسی میں عام گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی آئندہ پانچ برسوں میں 80 فیصد تک کم کرنے، پلگ اِن ہائبرڈ اور توسیعی حد والی برقی گاڑیوں کو مساوی حیثیت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ برقی گاڑیوں پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔برقی گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے سامان پر کسٹمز ڈیوٹی ایک فیصد رکھنے، جبکہ ایسی گاڑیوں کے لیے قرض کی حد ایک کروڑ روپے اور ادائیگی کی مدت 3 سے 5 سال تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق 2026-27 میں کاروں کی برآمدات کا ہدف 4 فیصد جبکہ 2030-31 تک اسے 20 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ آٹو پرزہ سازوں کے لیے بھی برآمدی ہدف 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مسودے میں 2025ء تک 62 عالمی معیار اپنانے اور 2029ء تک مزید 45 معیار متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکس میں کمی سے غیر پرتعیش گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ پالیسی کے تحت 2026 سے 2031 تک تقریباً 17 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔