عمر شریف کی پانچویں برسی، مداح آج بھی مزاح کے بادشاہ کو یاد کرتے ہیں

عمر شریف کی پانچویں برسی، مداح آج بھی مزاح کے بادشاہ کو یاد کرتے ہیں

Oct 2, 2026|ویب ڈیسک

کراچی( شو بز ڈیسک)پاکستان کے معروف کامیڈین اور اداکار عمر شریف کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا۔ وہ 19 اپریل 1955ء کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے اور فن کی دنیا میں ابتدائی طور پر عمر ظریف کے نام سے بطور اسٹیج فنکار سامنے آئے۔ بعدازاں انہوں نے اپنا نام عمر شریف رکھا اور اسی نام سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔عمر شریف نے 1980ء میں آڈیو کیسٹ کے ذریعے اپنے اسٹیج ڈراموں کی پیشکش کا سلسلہ شروع کیا، جنہیں پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ ان کے معروف ڈراموں میں ’’بکرا قسطوں پر‘‘، ’’بڈھا گھر پر ہے‘‘، ’’میری بھی تو عید کرا دے‘‘ اور ’’ماموں مذاق مت کرو‘‘ سمیت کئی مقبول ڈرامے شامل ہیں۔انہوں نے 70 سے زائد ڈراموں کے اسکرپٹ تحریر کیے اور متعدد ڈراموں میں بطور مصنف، ہدایتکار اور اداکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔1992ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’مسٹر 420‘‘ پر عمر شریف کو بہترین اداکاری اور ہدایت کاری کے دو قومی ایوارڈز دیے گئے، جبکہ انہیں 10 نگار ایوارڈز بھی ملے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا۔بھارتی کامیڈین جونی لیور اور راجو شریواستو بھی عمر شریف کی مزاحیہ صلاحیتوں سے متاثر تھے اور انہیں ’’دی گارڈ آف ایشین کامیڈی‘‘ کا لقب دیا تھا۔عمر شریف 2 اکتوبر 2021ء کو 66 برس کی عمر میں جرمنی میں دوران علاج انتقال کر گئے تھے۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔