عالمی قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا

عالمی قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا

Sep 24, 2026|ویب ڈیسک

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) 2026ء کی پہلی ششماہی کے اختتام تک دنیا کا مجموعی قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں عالمی قرض میں 10 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ 2025ء کی اسی مدت میں قرض 21 ہزار ارب ڈالر بڑھا تھا۔عالمی قرض مانیٹر کے مطابق شرح سود میں اضافہ، مہنگی قرض فنانسنگ، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور ایران تنازع عالمی قرض میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ قرضوں میں اضافے کی رفتار 5 سالہ اوسط سے بھی زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق 6 ماہ کے دوران ابھرتی معیشتوں کے قرض میں 6 ہزار 500 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس میں چین کا حصہ سب سے نمایاں رہا۔عالمی قرض مانیٹر کے مطابق امریکا، فرانس، برطانیہ اور جاپان کو مسلسل مالی خسارے اور بلند سودی ادائیگیوں کا سامنا ہے، جبکہ بڑی ترقی یافتہ معیشتوں میں مصنوعی ذہانت، دفاع اور توانائی کے اخراجات بھی سودی ادائیگیوں سمیت مجموعی مالی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کا کہنا ہے کہ بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے سود کی لاگت 18 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ مہنگائی کے باعث قرض کا مجموعی ملکی پیداوار سے تناسب بظاہر مستحکم دکھائی دیتا ہے، تاہم حقیقی مالی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔