بجلی مہنگی، صارفین پر نومبر کے بلوں میں اضافی بوجھ پڑے گا

بجلی مہنگی، صارفین پر نومبر کے بلوں میں اضافی بوجھ پڑے گا

Nov 7, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)بجلی صارفین کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آگئی، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافہ ستمبر 2026ء کی ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا گیا ہے، جس کا اطلاق نومبر کے بجلی بلوں میں ہوگا۔ اس اضافے کا اطلاق کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر ہوگا، جس میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے اضافے کی درخواست جمع کرائی تھی۔دوسری جانب نیپرا نے صنعتی شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے خصوصی بجلی نرخوں میں بھی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صنعتی صارفین کے لیے خصوصی نرخ 22 روپے 98 پیسے سے بڑھا کر 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔صنعتی شعبے نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خصوصی رعایتی پیکیج سے انہیں خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا بلکہ بجلی کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ صنعت کار گزشتہ کئی ماہ سے اس پیکیج کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔نیپرا کے ارکان کے درمیان اس فیصلے پر اختلاف بھی سامنے آیا۔ ممبر ٹیرف آمنہ احمد اور ممبر ڈیولپمنٹ مقصود انور نے نظرثانی شدہ نرخوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے مشترکہ اختلافی نوٹ میں کہا کہ 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ کا نیا نرخ مقرر کرنے کے لیے ٹھوس شواہد موجود نہیں اور یہ بظاہر من مانا فیصلہ ہے۔دونوں ارکان کا کہنا تھا کہ وزارت توانائی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور حسابات کی بنیاد پر نئے نرخوں کا تعین کیا گیا، تاہم ان کی مکمل وضاحت اور متعلقہ شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے بھی اپنے تحریری مؤقف میں اختلاف کرنے والے ارکان کے اعتراضات کو قابل غور قرار دیا، تاہم فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے خصوصی پیکیج کو برقرار رکھنے اور نئے نرخوں کی منظوری دے دی۔اتھارٹی کے ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاور ڈویژن کو نظرثانی شدہ حسابات چھ ماہ قبل جمع کرانے چاہیے تھے، لیکن بار بار یاد دہانی کے باوجود متعلقہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ارکان نے وزارت کی جانب سے نیپرا کے سوالات اور اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہ دینے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔