گیس نرخوں میں تاخیر سے اضافے پر ایس این جی پی ایل پر 819 ارب روپے کا بوجھ

گیس نرخوں میں تاخیر سے اضافے پر ایس این جی پی ایل پر 819 ارب روپے کا بوجھ

Jun 30, 2026|ویب ڈیسک

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) دستیاب دستاویزات اور ذرائع کے مطابق مختلف ادوار میں حکومتوں کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بروقت اضافہ نہ کرنے اور درآمدی مائع قدرتی گیس کو کم نرخوں پر گھریلو صارفین کو فراہم کرنے کے فیصلوں کے باعث سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ پر 819 ارب روپے کا مالی بوجھ پڑ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق کمپنی نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے واجبات کی ادائیگی کے لیے حاصل کیے گئے 50 ارب روپے کے بینک قرضے کو مقررہ مدت میں واپس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔کمپنی نے اس سلسلے میں حکومتی ضمانت کی مدت میں 30 جون 2030 تک توسیع کی درخواست بھی کر دی ہے۔دستاویزات کے مطابق مالی سال 2013 سے گیس کی قیمتوں میں بروقت رد و بدل نہ ہونے کے باعث گیس کے شعبے میں گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ تاہم نومبر 2023 کے بعد گیس نرخوں پر بار بار نظرثانی کے نتیجے میں نئے گردشی قرضوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔اس کے باوجود ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث اضافی چارجز اور سود کی مد میں واجبات میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔