کاٹن زونز میں گنے کی کاشت بڑھنے سے کپاس کا پیداواری ہدف مسلسل دوسرے سال بھی پورا نہ ہوسکا
کراچی ( کامرس ڈیسک)ملک کے روایتی کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں گنے کی غیر معمولی کاشت کے باعث مسلسل دوسرے سال بھی قومی سطح پر کپاس کی پیداوار کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا، جبکہ شدید گرمی نے روئی کے ریشے اور بیج کے معیار کو بھی متاثر کیا ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے تازہ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ 31 اکتوبر تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 47 لاکھ 43 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 19 لاکھ 99 ہزار جبکہ سندھ میں 27 لاکھ 44 ہزار گانٹھوں کے برابر پھٹی موصول ہوئی، جو گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 5 اور 9 فیصد زیادہ ہے۔اس عرصے میں ٹیکسٹائل ملز نے 39 لاکھ 97 ہزار گانٹھیں جبکہ برآمد کنندگان نے 98 ہزار گانٹھیں خریدیں۔ جننگ فیکٹریوں میں فروخت کے لیے 6 لاکھ 48 ہزار گانٹھوں کا ذخیرہ موجود ہے۔سندھ کے ضلع سانگھڑ میں سب سے زیادہ 12 لاکھ 11 ہزار گانٹھوں کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں تک پہنچی۔ بہاولنگر میں 5 لاکھ 26 ہزار، بہاولپور میں 3 لاکھ 65 ہزار، سکھر میں 3 لاکھ 19 ہزار، ڈیرہ غازی خان میں 2 لاکھ 83 ہزار اور رحیم یار خان میں 2 لاکھ 34 ہزار گانٹھوں کی ترسیل ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق کپاس کے گزشتہ سیزن 2025-26 میں ملکی پیداوار 56 لاکھ 7 ہزار گانٹھیں رہی تھی، جبکہ رواں سال کاشت کا رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار 60 لاکھ گانٹھوں سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ کا نفاذ بتایا گیا ہے، جس سے روئی کی غیر دستاویزی خریدوفروخت میں کمی آئی ہے۔احسان الحق کا کہنا تھا کہ دو سال قبل ستمبر اور اکتوبر کے دوران ہر 15 روز میں کپاس کی پیداوار 10 لاکھ گانٹھوں سے زیادہ ہوتی تھی، تاہم کاٹن زونز میں گنے کی بڑھتی ہوئی کاشت کے باعث گزشتہ 2 سال سے کسی بھی پندرھواڑے میں یہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی سے نومبر کے پہلے ہفتے تک بیشتر کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں غیر معمولی گرمی کے باعث بیج کے اگاؤ میں کمی آئی، جبکہ روئی کے ریشے کی لمبائی اور مضبوطی بھی متاثر ہوئی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ٹیکسٹائل ملز کو معیاری روئی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک سے زیادہ درآمدات کرنا پڑ رہی ہیں۔