کراچی( کامرس ڈیسک) ملک میں معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث 70 سے 80 فیصد کاروباری اداروں نے نئی سرمایہ کاری کے منصوبے مؤخر کر دیے ہیں یا ان پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ کاروباری اعتماد سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری فضا گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہے۔سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق مجموعی کاروباری اعتماد 9 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح مثبت 22 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی اہم وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، رسد کے نظام میں رکاوٹیں، پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی کیفیت اور معاشی ترقی کے بارے میں خدشات شامل ہیں۔کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری اخراجات، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔شعبہ وار جائزے میں خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی، جہاں کاروباری اعتماد 20 پوائنٹس کم ہو کر مثبت 14 فیصد تک محدود ہو گیا۔ صنعتی شعبے میں بھی اعتماد کی سطح میں 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم خردہ فروشی کا شعبہ واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔سروے کے مطابق نئی سرمایہ کاری کا رجحان بھی نمایاں طور پر کمزور ہوا ہے۔ نئی سرمایہ کاری کا اشاریہ 10 پوائنٹس کی کمی کے بعد مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیشتر ادارے موجودہ حالات میں سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں سے گریز کر رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کاروباری ادارے اب متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، رسد کے متبادل ذرائع اختیار کرنے اور کاروباری خطرات کو محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
کاروباری اعتماد میں کمی، بیشتر اداروں نے نئی سرمایہ کاری مؤخر کر دی
1 گھنٹے قبل