کوئٹہ ( اباسین خبر)چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چاروں ممبران کے ہمراہ جمعرات کو عالمی یومِ خواتین 2025 کے موقع پر الیکشن کمیشن کی خواتین کے لیے شمولیاتی شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن مہم کے پانچویں مرحلے کا آغاز کیا۔ اس مہم کے پچھلے چار مراحل میں خواتین اور پسماندہ گروپوں کی انتخابی شمولیت اور صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے۔چیف الیکشن کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اس وقت پروان چڑھتی ہے جب ہر آواز سنی جاتی ہے اور ہر شہری کو اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کی تشکیل کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے آئینی دائرہ اختیار کا ذکر کرتے ہوئے خواتین اور پسماندہ گروپوں کی شمولیت کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی مسلسل محنت سے 2018 میں انتخابی فہرستوں میں صنفی فرق 11.8 فیصد سے کم ہو کر جنوری 2025 میں 7.4 فیصد تک آ گیا ہے، جسے ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے مہم کے گزشتہ مراحل میں کام کرنے والے ٹیم اور شراکت داروں کی محنت کو سراہا۔الیکشن کمیشن نے ایشیا پیسیفک خطے میں “جینڈر مین اسٹریمینگ اینڈ سوشل انکلوژن فریم ورک” کی بنیاد رکھی ہے اور پانچ سالہ عملی منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ خواتین اور پسماندہ طبقات کی شمولیت اور نمائندگی کو بڑھایا جا سکے۔ کمیشن نے صنفی جوابدہ بجٹ سازی کے عمل کا آغاز بھی کیا ہے اور اپنے عملے کو صنفی لحاظ سے حساس منصوبہ بندی کے لیے تربیت دی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے خواتین کے لیے معاون ماحول فراہم کرنے کے عزم کو اجاگر کیا، جس میں ڈے کیئر سینٹرز، ٹرانسپورٹ کی فراہمی، خواتین کے کامن روم اور مخصوص پارکنگ کی سہولتیں شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے خواتین کی اہم عہدوں پر نمائندگی بھی یقینی بنائی ہے اور کام کے مقام پر ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی ہے۔آخر میں، انہوں نے کہا کہ یہ مہم صرف ایک تشہیری مہم نہیں بلکہ الیکشن کمیشن اور نادرا کی مشترکہ قانونی ذمہ داری ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ہر شہری، خصوصا خواتین اور پسماندہ طبقات کی رجسٹریشن، شمولیت اور بااختیار بنانے کو یقینی بنایا جائے۔
انتخابی عمل میں شمولیت اور صنفی مساوات کو بڑھانے کیلئے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے گئے، چیف الیکشن کمشنر
4