یمن میں جھڑپیں تیز، سرکاری فورسز کا حوثیوں کے ٹھکانوں پر قبضہ

یمن میں جھڑپیں تیز، سرکاری فورسز کا حوثیوں کے ٹھکانوں پر قبضہ

Sep 14, 2026|ویب ڈیسک

صنعا( مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے تعز کے مغربی علاقوں میں ان مقامات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں انصار اللہ حوثی گروپ کے جنگجو داخل ہوگئے تھے۔یمنی فوج کے مطابق فورسز مزید علاقوں کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔ حوثیوں کے اجتماعات پر فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں، درمیانے درجے کے ہتھیاروں کا گولہ بارود پھٹ گیا جبکہ کم از کم 10 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی جھڑپوں کے دوران بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے جنوبی سعودی عرب کے نجران، خمیس مشیط، جازان اور ابہا میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ابتدائی انتباہ جاری کیے، تاہم بعد میں خطرہ ٹلنے کی اطلاع دے کر انہیں واپس لے لیا گیا۔ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ اہم سعودی تیل پائپ لائن کی بندش، سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں سے تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں۔حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں حوثیوں کے اہم مرکز پر حملے کیے۔ حوثی ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق صعدہ میں دو فضائی حملے کیے گئے جبکہ سرحدی ضلع منبہ میں توپ خانے سے گولہ باری ہوئی۔حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز، لحج، الجوف، حجہ، البیضاء اور صعدہ میں 58 فضائی حملے کیے، جن میں خمیس مشیط کے فضائی اڈے سے اڑنے والے ایف 15 طیارے بھی استعمال ہوئے۔حوثیوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے جنوبی سعودی عرب کے شہر شرورہ میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اسلحہ کے گودام اور کمانڈ و کنٹرول مراکز حملے کا ہدف تھے۔