عالمی بینک کی پیش گوئی، پاکستان میں مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان

عالمی بینک کی پیش گوئی، پاکستان میں مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان

Oct 22, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال سے متعلق 2026ء کی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں ملک کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ مالی سال 2026-27ء کے دوران مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ بندی کے اداروں ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی قرضوں سے متعلق درجہ بندی بہتر کی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے عالمی منڈی میں 75 کروڑ ڈالر اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی جاری کیے۔عالمی بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی، جس میں مویشی پالنے کے شعبے نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 19.7 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہوکر مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد تک آگیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران عمومی مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود بڑھا کر 11.5 فیصد کردی۔ مالی سال 2026-27ء میں معاشی ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.5 فیصد تھی، جو اگلے مالی سال میں بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی۔ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا۔رپورٹ کے مطابق مارچ سے جون 2026ء کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 10.2 فیصد رہی، جبکہ مئی 2026ء میں یہ بڑھ کر 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔مالی سال 2025-26ء کے دوران شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی کی اوسط شرح 4.3 فیصد اور دیہی علاقوں میں 5.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ گندم اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کو اس کی اہم وجہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2026ء تک شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی بڑھانے میں غذائی اشیا کا نمایاں کردار رہا۔عالمی بینک نے مزید بتایا کہ فروری سے جون 2026ء کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 31 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس کی قیمت میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی تقریباً 30 فیصد بڑھ گئے۔رپورٹ کے مطابق مارچ 2026ء سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید شدت آئی۔ مالی سال 2025-26ء میں بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.5 فیصد رہی، جبکہ مئی 2026ء میں شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 9 فیصد تک پہنچ گئی۔