عثمان خواجہ کے نئے انکشافات، آسٹریلوی کرکٹ کا پرانا بال ٹیمپرنگ اسکینڈل دوبارہ زیرِ بحث
سڈنی (سپورٹس ڈیسک) سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے نئے انکشافات نے 2018ء کے مشہور بال ٹیمپرنگ اسکینڈل ’’سینڈ پیپر گیٹ‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔عثمان خواجہ نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’صبر‘‘ میں 2018ء کے بال ٹیمپرنگ واقعے سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی اس منصوبے سے واقف تھے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہتے تھے اور نہ ہی ایسے شخص بننا چاہتے تھے جسے آگے بڑھ کر حقیقت بیان کرنا پڑے۔ انہوں نے سوچا کہ 8 سال گزرنے کے بعد اب سچائی سامنے آنی چاہیے۔سابق کرکٹر کے مطابق انہوں نے اس وقت بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس واقعے کی ذمہ داری پوری ٹیم کو اجتماعی طور پر قبول کرنی چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ انفرادی نہیں بلکہ ٹیم کی حیثیت سے پیش آیا تھا۔عثمان خواجہ نے کہا کہ تمام کھلاڑی جانتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن اجتماعی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے صرف 3 کرکٹرز کو سزا دی گئی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران گیند سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، جبکہ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں سینڈ پیپر کو گیند کی ساخت تبدیل کرنے کے لیے مؤثر قرار دیا گیا تھا۔اپنی کتاب میں عثمان خواجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسٹیو اسمتھ نے اس معاملے سے لاعلم رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور کیپ ٹاؤن ٹیسٹ سے قبل بھی گیند سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات پیش آتے رہے تھے۔واضح رہے کہ 2018ء میں جنوبی افریقا کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران بال ٹیمپرنگ کا واقعہ سامنے آنے پر ڈیوڈ وارنر، اسٹیو اسمتھ اور کیمرون بینکرافٹ کو سزائیں دی گئی تھیں۔کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات کے دوران عثمان خواجہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا، جبکہ پیٹ کمنز سمیت چار آسٹریلوی بولرز مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن نے بھی سینڈ پیپر کے استعمال سے لاعلمی کا مؤقف اختیار کیا تھا۔دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے متعلق دستیاب تمام معلومات کا مناسب جائزہ لیا جا چکا ہے اور ادارہ اپنی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ 8 برس کے دوران اس واقعے پر متعدد بیانات اور افواہیں سامنے آتی رہی ہیں۔