امریکی ڈیزل برآمدات پر پابندی، عالمی ایندھن مہنگا ہونے کا خدشہ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں ڈیزل کی قیمت ایک ماہ کے دوران 5.61 ڈالر سے بڑھ کر 6.50 ڈالر فی گیلن ہوگئی جبکہ ڈیزل کے ملکی ذخائر 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کی حمایت کی ہے، جبکہ بعض ریپبلکن ارکان نے عارضی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم امریکی حکومت نے ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔عرب میڈیا کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی برآمدات روکنے سے امریکا میں فوری طور پر قیمتوں میں کمی کے بجائے ریفائنریوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ڈیزل کے ذخائر میں اضافہ ہوا تو ریفائنریاں پیداوار کم کرسکتی ہیں، جس سے مجموعی رسد مزید محدود ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ڈیزل پر انحصار کرنے والے لاطینی امریکی اور یورپی ممالک کو متبادل ذرائع سے ایندھن حاصل کرنے کیلئے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔عرب میڈیا میں شامل مختلف تجزیوں کے مطابق مکمل پابندی کی صورت میں امریکی ڈیزل کی پیداوار روزانہ 7 لاکھ 50 ہزار بیرل تک کم ہوسکتی ہے جبکہ امریکا کو پٹرول درآمد کرنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔