خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے: اسحاق ڈار

خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے: اسحاق ڈار

Sep 26, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن، استحکام اور مشترکہ خوش حالی کیلئے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔اقتصادی تعاون تنظیم وزرائے کونسل کے 27ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 2026-27 کیلئے اقتصادی تعاون تنظیم وزرائے کونسل کی سربراہی سنبھال لی ہے، علاقائی تعاون کو مؤثر بنانے کیلئے مکالمے سے عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خطے کو زیادہ مربوط، متحرک اور مسابقتی بنانا ای سی او کا مشترکہ مقصد ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارت مجموعی علاقائی تجارت کا تقریباً 8 فیصد ہے جبکہ ای سی او خطے میں تقریباً 50 کروڑ افراد آباد ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کیلئے پُرعزم ہے اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی اقتصادی انضمام اور باہمی تجارت کے فروغ کو ترجیح دے گا، وسطی ایشیا کو بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والی اہم راہداریوں پر پیش رفت تیز کرنا ہوگی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کی آبی سلامتی، زراعت اور روزگار کیلئے سنگین خطرہ ہے، اس سے نمٹنے کیلئے موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے اور پائیدار توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ای سی او کے تجارتی معاہدے کو مزید مؤثر بنانے، آزاد تجارتی علاقے کو فعال اور ڈیجیٹل کرنے کی جانب پیش رفت کا خواہاں ہے، جس سے منڈیوں تک رسائی، کاروبار اور جدت کے مواقع بڑھیں گے۔اسحاق ڈار نے افغانستان کی صورتحال پر کہا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان ایک پُرامن، خوش حال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے اور طالبان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط کی کوشش کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت سے پاکستان کی واحد توقع اپنے جائز سیکیورٹی خدشات کا ازالہ ہے، افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن اور ترقی ممکن نہیں۔