امریکا اور اسرائیل کا وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ
واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج کے تمام عسکری وسائل نومبر کے آغاز تک تیار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران نئے حملوں کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اور اسرائیل عراق کی فضائی حدود میں فوجی مشقیں کر رہے ہیں، جن کا مقصد ممکنہ کارروائی کی تیاری بتایا جاتا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئے حملوں سے ایران کی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے شکوک بھی موجود ہیں کہ آیا فوجی کارروائی مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے گی یا نہیں۔ اس سے قبل ایران پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال ایران پر نئے حملوں کی حتمی منظوری نہیں دی۔ اس لیے فوجی کارروائی کا امکان موجود ہونے کے باوجود اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔