ایرانی سرحد بند ہونے سے ایل پی جی بحران شدت اختیار کرگیا، اوگرا

ایرانی سرحد بند ہونے سے ایل پی جی بحران شدت اختیار کرگیا، اوگرا

Oct 22, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کا بحران ایرانی سرحد بند ہونے کے باعث پیدا ہوا ہے، جبکہ سپلائی میں تعطل کے نتیجے میں قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے، جس میں سے نصف ایران سے حاصل کی جاتی ہے۔ ایرانی سرحد کے ذریعے درآمدات بحال نہ ہونے کی صورت میں بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان ایران، عراق اور عمان سے ایل پی جی درآمد کرتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراق اور عمان سے بھی گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔اوگرا کے ذرائع نے بتایا کہ ایل پی جی کی اضافی قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے انفورسمنٹ ٹیمیں سرگرم ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ اوسط کھپت 24 سے 25 لاکھ ٹن ہے۔ اوگرا نے 11.8 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 296 روپے مقرر کر رکھی ہے، تاہم ملک میں سلنڈر اس قیمت سے دوگنا سے بھی زیادہ نرخوں پر فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔