اباسین خبر

امریکا اور ایران کے درمیان نئے معاہدے سے خطے میں امن کی امید ہو چکی ہے: ٹرمپ

امریکا اور ایران کے درمیان نئے معاہدے سے خطے میں امن کی امید ہو چکی ہے: ٹرمپ

پیرس ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا نیا معاہدہ ایران کی ممکنہ جوہری عسکری صلاحیت کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر رکاوٹ ثابت ہوگا۔فرانس میں متحدہ عرب امارات کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مجوزہ معاہدے کو امریکی قانون ساز ادارے میں نظرثانی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک تھا اور اس سے ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران موجودہ کشیدگی ختم کرنا چاہتا ہے اور جلد از جلد معمول کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی طرف واپس آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ایک یا دو روز میں عوام کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز جمعے سے مکمل طور پر بحال اور کھول دی جائے گی، اور اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں جہازوں سے کسی قسم کی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن کو فروغ دینا، عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد تک محدود رکھنا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ عملی صورت اختیار کر لیتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔